ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / پاکستان نے76دہشت گردوں کی فہرست افغان عہدیداروں کوسونپی

پاکستان نے76دہشت گردوں کی فہرست افغان عہدیداروں کوسونپی

Sat, 18 Feb 2017 11:47:45    S.O. News Service

اسلام آباد،17؍فروری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)پاکستان کی فوج نے افغان سفارت خانے کے عہدیداروں کو راولپنڈی میں فوج کے صدر دفتر میں بلا کر اُن سے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین پر چھپے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے۔افغان سفارت خانے کے عہدیداروں کو اس طرح فوج کے صدر دفتر جی ایچ کیو میں بلانا بظاہر ایک غیر معمولی اقدام ہے کیوں کہ عموماً احتجاج یا اس طرح کے پیغام کے لیے سفارت کاروں کو وزارت خارجہ بلایا جاتا ہے۔فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے جمعہ کو ٹوئیٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ افغان عہدیداروں کو 76ایسے دہشت گردوں کی فہرست فراہم کی گئی جو افغانستان میں چھپے ہوئے ہیں۔پیغام کے مطابق ان دہشت گردوں کے خلاف فوری کارروائی اور اُنھیں پاکستان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔فوج کے بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کن افغان عہدیداروں کو جی ایچ کیو بلایا گیا۔تاحال افغانستان کی طرف سے اس بارے میں کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

صوبہ سندھ کے علاقے سیہون میں لعل شہباز قلندر کی درگاہ پر جمعرات کو ہونے والے مہلک خودکش بم حملے میں ہلاکتوں کے بعد پاکستان نے ملک بھر میں سکیورٹی کے اضافی انتظامات کیے ہیں۔انھیں اقدامات کے تحت پاکستان نے افغانستان سے ملنے والی سرحد غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دی ہے۔میجر جنرل آصف غفور نے ٹوئیٹر پر جمعرات کی شب ایک پیغام میں کہا کہ سلامتی خدشات کے سبب پاک افغان سرحد بند کر دی گئی ہے۔جب کہ جمعہ کی صبح پاکستانی فوج کے ایک بیان میں کہا گیا کہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں ایک سرحدی چوکی پر سرحد پار افغانستان سے عسکریت پسندوں نے حملہ کیا، جسے پسپا کر دیا گیا۔بیان کے مطابق اس حملے میں دو ایف سی اہلکار زخمی ہو گئے جب کہ فائرنگ کے تبادلے میں کچھ دہشت گردوں کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں۔

واضح رہے کہ رواں ہفتے کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں مہلک بم دھماکوں میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت 100سے زائد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں۔لاہور میں پنجاب اسمبلی سے کچھ فاصلے پر ہونے والے مہلک حملے کے علاوہ بعض دیگر دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ایک دھڑے جماعت الاحرار نے قبول کی تھی۔دہشت گردی کے ان واقعات کے بعد پاکستان نے افغانستان سے ملحقہ اپنی سرحد پر نگرانی بڑھا دی ہے۔


Share: